جامع العلوم ملتان میں خوش آمدید | قرآن پرو | لفظ بہ لفظ ترجمۂ قرآن، مکمل تفسیر تفہیم القرآن از سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ، اور ممتاز قراء کرام کی آوازوں میں آڈیو قرآن پر مشتمل ایک جامع قرآنی ایپ ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لیے ویب سائٹ کےایپ سیکشن میں تشریف لے جائیں جامع العلوم ملتان میں خوش آمدید | قرآن پرو | لفظ بہ لفظ ترجمۂ قرآن، مکمل تفسیر تفہیم القرآن از سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ، اور ممتاز قراء کرام کی آوازوں میں آڈیو قرآن پر مشتمل ایک جامع قرآنی ایپ ہے۔ اس سے استفادہ کرنے کے لیے ویب سائٹ کےایپ سیکشن میں تشریف لے جائیں
اہم خبریں
Promo Banner
Promo Banner

جامع العلوم ملتان اکابر علماء و مفکرین کی نظر میں

مولانا سید ابو الاعلی مودودی رحمة الله

(بانی جماعت اسلامی)

ہمارے معاشرے میں خرابی کے جو بنیادی اسباب پائے جاتے ہیں,  ایک یہ ہے کہ یہاں دو الگ اور بالکل متضاد تعلیمی نظام رائج ہیں. ایک طرف ہماری مذہبی تعلیم کا نظام ہے جس میں سراسر قدیم علوم پڑھائے جاتے ہیں اور فارغ التحصیل ہونے تک طلبہ کو جدید تعلیم کی ہوا تک نہیں لگتی  نہ آج کی دنیا کے مسائلوں معاملات سے کوئی واقفیت حاصل ہوتی ہے. دوسری طرف جدید تعلیمی نظام ہے جو پورے کا پورا مغرب سے درامد شدہ علوم اور خیالات پر قائم ہوا ہے اس کے تحت تعلیم پانے والے اسلام کے عقائد,  عبادات, تہذیب و تمدن اور تاریخ ہر چیز سے بیگانہ ہو کر رہ جاتے ہیں. اس صورتحال کے نقصان اپ آج انتہائی بھیانک صورت ہمارے سامنے نمایا ہو کر ارہے ہیں اور پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہےاس خرابی کو دور کرنے کے لیے ایک ابتدائی تجربہ جامع العلوم ملتان میں کیا جا رہا ہے یہاں یہ کوشش کی گئی ہے کہ قدیم مذہبی تعلیم کے نصابوں کو ملا کر ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جس سے فارغ ہو کر نکلنے والے طلباء دین بھی اور دینی علوم کے جامع ہوں. ان کے اندر بیک وقت ایک عالم دین اور ایک گریجویٹ کی قابلیت پائی جائے اور اس کے ساتھ ان کو یونیورسٹی کے امتحانات بھی دلوائے جائیں تاکہ وہ اس مستقبل سے دو چار نہ ہوں جو موجودہ زمانہ میں عربی مدارس سے فارغ ہونے والے طلبہ کے لیے مقرر ہو کر رہ گیا ہےیہ ایک ایسے کام کی ابتدا ہے جس کی ضرورت اور جس کا فائدہ کسی ذی فہم آدمی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس لیے میں تمام ان حضرات سے جو اس اہم تعلیمی تجربے کی ضرورت اور اس کے فائدے کو محسوس کرتے ہیں اپیل کرتا ہوں کہ وہ دل کھول کر اس مدرسے کی عیانت کریں.

جناب میاں طفیل محمد مرحوم

( سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان)

مئی8 , 1981 بروز جمعہ مجھے جامع العلوم ملتان کے جلسہ تقسیم اسناد اور ختم بخاری شریف میں شرکت کا موقع ملا.  کچھ طلبہ نے عربی اردو انگریزی اور پشتو زبان میں تقاریر پیش کی جو اپنے فقر و مضمون اور طرز خطابت کے لحاظ سے بھی بہت اعلی معیار کی تھی. جامع العلوم کے نصاب اور طریقے تعلیم میں طالب علموں میں دینی علوم کی رائج الوقت تعلیم کے ساتھ جدید علوم کی رائج الوقت تعلیم دینے کا انتظام ہے اور بچوں کی دینی اور اخلاقی اور فکری و ذہنی تربیت اور نشونما پر خاص توجہ دی جاتی ہے. جامع العلوم نے اس امر کی کوشش کی ہے کہ اسلامی نظام تعلیم کا مظاہرہ کیا جائے اور اس میں یہ بڑی حد تک کامیاب ہے. حکومت پاکستان کے شعبہ تعلیم کو چاہیے کہ وہ جامع العلوم کے تجربے کا مطالعہ کر کے اسے ترقی دے اور اسے ملک میں رائج کرنے کی کوشش کرے تاکہ ملک کو وہ تعلیم یافتہ نوجوان میسر ائیں جو ذہنی و فکری اور علمی و اخلاقی اور عمل و کردار کے لحاظ سے ملک کو مطلوبہ اسلامی معیار پر چلانے کی صلاحیت رکھنے والے ہوں. اس سلسلہ کی دوسری سب کوششوں سے جامعرعلوم سب سے بہتر کوشش ہے میں کے اساتذہ اور منتظمین کو ان کی ان کوششوں پر مبارکباد پیش کرتا ہوں.

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم

(سابق مفتی اعظم پاکستان)

اہل یورپ نے مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کی جنگوں سے عاجز انے کے بعد جو مخفی اختیار استعمال کیے وہ دو تھے. ایک نئی تعلیم جس میں خدا اور مذہب کا کوئی تصور نہیں بلکہ ایک حد تک انکار ہے جو انسان کو خالص مادہ پرستی کی طرف لے جاتی ہے دوسرے وطنی اور جغرافیائی قومیتوں کی تقسیم. افسوس کہ مسلمان لاشعوری طور پر ان دونوں ہتھیاروں کے شکار ہو گئے. تعلیم نے ان کی ذہنیت تبدیل کر کے مذہب سے بیگانہ کر دیا اور انسانی جغرافیائی قومیتوں نے سیاسی طور پر مسلمانوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا.اج جتنی خرابیاں مسلمانوں میں جڑ پکڑ چکی ہیں اور کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوتی غور کرنے سے اس کا سبب د سلو پوائزن یعنی اہستہ اہستہ کام کرنے کا زہر ہے جو مسلمانوں کے بچوں کو سکولوں اور کالجوں میں پلایا جاتا ہے جب دلوں سے اللہ اور اس کے رسول کی عظمت نکل گئی تو پھر ہر چیز میں شبہ ہی شبہ رہتا ہے لیکن وقت کی ضروریات کے پیش نظر اس نئی تعلیم کو یکثر چھوڑا بھی نہیں جا سکتا. اس لیے تقریبا ایک صدی سے یہ سوال مسلمانوں کے دلوں میں فطرتی طور پر ابھرتا ہے کہ علوم جدیدہ یا انگریزی زبان کی تعلیم تو زہر نہیں بلکہ زہر وہ نصاب یا ماحول ہے جو انسان کو اللہ اور اس کے رسول کی عظمت سے بیگانہ کر دیتا ہے. اگر کوئی ایسی تدبیر کر لی جائے کہ دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کا انتظاج اس طرح ہو کہ وہ انسان کے دین و مذہب پر اثر انداز نہ ہوں تو ظاہر ہے بجائے مضرت کے بہت سے فوائد کا سامان ہو سکتا ہے. جامع العلوم کے نام سے جو مدرسہ کھلا ہے سنا ہے کہ اس میں ان چیزوں کی خاص رعایت رکھی گئی ہے کہ دینی علوم اور دینی کردار مجروح نہ ہونے پائے دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کو کامیاب فرمائے اور وہ ایک مثال قائم کر دے تو پھر امید ہے دوسرے اداروں کو بھی اس کام کی اہمیت پیدا ہو جائے گی.

جناب چوہدری محمد علی مرحوم

( سابق وزیراعظم پاکستان)

مجھے جامع العلوم کے نظام تعلیم کو دیکھ کر بے انتہا مسرت ہوئی یہ درسگاہ صحیح معنوں میں جامع العلوم ہے۔ بیک وقت دینی اور دینوی تعلیم کا اچھا انتظام ہے اور طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی صلاحیتوں کی ایک پاکیزہ ماحول میں پرورش ہو رہی ہے۔ درحقیقت افراد کی طرح بعض علوم  کی بھی ایک محدود زندگی ہوتی ہے۔ وہی سماوی سے حاصل شدہ علوم کے علاوہ اس زمانہ کے بعد ان علوم کی قدرو قیمت زمانہ کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ کم ہو جاتی ہے۔ یہی حال ہمارے مدارس عربیہ میں داخل شدہ علوم عقلیہ کا ہے نہ صرف ذات باری اور صفات باری کے متعلق وہ مسائل باقی رہے ہیں نہ ان کے دلائل ہی کی اہمیت ہے مناظرہ کا اسلوب بھی بدل گیا ہے طرز ادا بھی زمانہ کا مختلف ہے۔ علم حیت بھی ہم جو کچھ پڑھاتے ہیں جدید علم ہیت کی ترقی کے بعد ان کی حیثیت سمندر کے مقابلہ میں ایک کوزہ کی یا آفتاب کے مقابلہ میں ذرہ کی ہے بلکہ اگر آپ اجازت دیں تو میں عرض کر سکتا ہوں کہ صرف و نحو اور معنی و بلاغت کی جن کتابوں پر ہم نے اپنا اس قدر مقصد کر رہے ہیں اور نتیجہ بھی ہمیں جو کچھ حاصل ہو رہا ہے کیا مناسب نہیں ہے کہ فلسفہ نحو پڑھانے کی بجائے ہم نحو اور ادب عربی پڑھائیں اور مشق و تمرین کے ذریعہ عربی زبان کے لکھنے اور بولنے پر قدرت پیدا کی جائے. اب تو ایسے جامع مدارس کی ضرورت ہے جن کے فارغ التحصیل اور حاملین استاد دین و دنیا کے تمام امور انجام دے سکیں جو ایک طرف مدرسین اور کالج و سکول میں تعلیم دے سکیں تو دوسرے طرف دفتروں میں بھی کام کرنے کے اہل ہوں۔ اسلام کی تعلیمات چونکہ جامع ہیں ان میں دین و دنیا کی تفریق نہیں۔ لہذا مسلمانوں کے نظام تعلیم میں صرف دنیاوی تعلیم یا صرف دینی تعلیم کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کا نظام تعلیم بھی وہی کامیاب ہو سکتا ہے جس میں زندگی کے دونوں رخ کا لحاظ رکھا گیا ہو. یہ کام جامع العلوم ملتان میں ہو رہا ہے تو یہ بڑی خوش آئن بات ہے.

حضرت مولانا مفتی سیاح الدین کاکا خیل مرحوم

(سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل) پاکستان

جہاں تک اس قسم کے مدرسے کے ذکر کردہ مقصد کا تعلق ہے مجھے اس سے پورا اتفاق ہے اور خود میں بھی کافی عرصہ سے اس ملک میں اس مقصد کا حصول ضروری سمجھتا ہوں. اس کی تحصیل کے ذرائع و وسائل سوچ رہا ہوں آپ نے بھی اس کے لیے ایک نظام تعلیم سوچ کر عملا جاری کر دیا ہے خدا کرے آپ کو کامیابی حاصل ہو جائے آپ نے اس نصاب اور طریقے تعلیم کی چند خصوصیات کا ذکر فرمایا ہے ان خصوصیات کو کسی دارالعلوم میں پیدا کرنا میرے ہاں بھی ضروری ہے۔ دین کے بہترین عالم اور علوم جدیدہ کے بہترین فاضل اگر عملا تیار کیے جائیں تو یہ آپ کے جامع العلوم کی واقعی ایک ممتاز اور نمایاں خصوصیت ہوگی۔ قدیم و جدید کے امتزاج کا میں بھی قائل ہوں اور اس کو اس وقت کی ایک اہم ضرورت سمجھتا ہوں لیکن اس سلسلہ میں محض نظری طور پر عمدہ سے عمدہ نصاب بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن عملا اس نصاب کو جاری کر کے اس کے مطابق تعلیم و تدریس کا نظام چلا کر مطلوبہ خصوصیات کے فارغ و تحصیل علماء فضلا تیار کرنا بظاہر بہت مشکل معلوم ہوتا ہے کیونکہ عموما دیکھا جاتا ہے کہ جہاں اس امتزاج کی کوشش کی گئی ہے یا تو عصری علوم اتنا غلبہ کر دیتے ہیں کہ اصل دینی علوم اور ان کی خصوصیات اور ان کے عملی اور علمی مظاہر سب کچھ دب جاتے ہیں طلبہ تھوڑی بہت انگریزی سیکھ لیتے ہیں لیکن دینی علوم میں مہارت کچھ حاصل نہیں ہوتی اور افکار و خیالات اور اعمال و اخلاق کے لحاظ سے وہ نہ صرف یہ کہ عام انگریزی خانوں جیسے ہو جاتے ہیں بلکہ دینی علوم کے اعتبار سے ان میں احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے اور ان کی ذہنیت کچھ شکست خوردہ سی ہوتی ہے اور یا اگر نصاب میں قدیم عنصر زیادہ ہو پھر قدامت اس قدر غلبہ کر دیتی ہے کہ عصری علوم کی طرف کچھ بھی توجہ نہیں ہوتی اور اس اعتبار سے وہ ناکام ہوتے ہیں اس لیے آپ حضرات اگر عملا اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ہو گئے اور قدیم و جدید کے توازن کو برقرار رکھا اور طلبہ میں واقعی صلاحیت پیدا کی گئی تو میں سمجھوں گا کہ مدارس کی دنیا میں علمی میدان میں یہ آپ کا ایک تجدیدی کارنامہ ہوگا اور لائق تحسین و آفرین اور قابل صد مبارکباد

اللہ تعالی آپ حضرات کو کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے آمین

جناب جسٹس سجاد احمد جان مرحوم

( سابق جج سپریم کورٹ آف پاکستان)

مجھے جامع العلوم میں حاضر ہو کر اور یہاں کے ماحول اور طریقہ تعلیم کے مشاہدے سے دلی مسرت ہوئی ہے خدا کرے کہ جس نظام تعلیم کی داغ بیل یہاں ڈالی گئی ہے اور جو مسلمانوں کو موجودہ تعلیمی ضروریات اور موجودہ سماجی تقاضوں کے عین مطابق ہے وہ پروان چڑھے اور اس شمع سے ملک کے تعلیمی چراغ روشن ضمیری سے روشن ہوتے چلے جائیں اس ادارہ کے ناظمین اپنی مجاہدانہ کوششوں کے لیے دلی مبارکباد کے مستحق ہیں.

حضرت مولانا ابو الکلام محمد یوسف مرحوم

سابق ممبر قومی اسمبلی پاکستان و سابق نائب امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش

 مئی 9,  1982 کو مجھے جامع العلوم ملتان کی زیارت کا موقع ملا میں اس دارالعلوم کو پہلے بھی جانتا تھا اس جامع العلوم کے تعلیمی اور طلبہ کے تربیتی نظام وغیرہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا دعا ہے کہ اللہ تعالی اس جامع العلوم سے ایسے علماء اور فضلاء نکالے جو ملک و ملت اور دین کے لیے مایا ناز ہوں.

Scroll to Top