تعارف
الجامعۃ الاسلامیہ جامع العلوم ملتان ایک ایسا منفرد اور عظیم الشان تعلیمی و تربیتی ادارہ ہے جس کے قیام کا مقصد ایسے صالح نوجوان تیار کرنا ہے، جو اسلام کے علمبردار بن سکیں اور اس دور جدید میں دین حق کے مطابق دنیا کی رہنمائی کرنے کے لائق ہوں۔ اس غرض کے لیے نوجوانوں کو ایسی تعلیم دینا مقصود ہے جس سے انہیں دین اسلام میں بھی بصیرت حاصل ہو اور اس کے ساتھ ساتھ جدید علوم میں بھی وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ افراد سے کسی طرح کم نہ ہوں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے
- اس ادارے میں ایسے افراد تیار ہوں گے جو دین کے عالم اور علوم جدیدہ کے فاضل ہوں۔
- اسلامی سیرت و کردار کے حامل ہوں۔
- ان کے اندر اسلام اور اسلامی تہذیب پر فخر اور اسے دنیا میں غالب کرنے کا عزم ہو۔
- جوتنگ نظری اور فرقہ پرستی سے بالاتر ہوں۔
- دین میں تفقہ اور بصیرت رکھنے والے ہوں۔
- جویونیورسٹیوں سے تعلیمی اسناد بھی حاصل کر سکیں تاکہ باوقار معاشی مرتبے پر فائز ہو سکیں۔
حقیقی محرک
جامع العلوم ملتان کے مؤسسین اور منتظمین اس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ یہ ادارہ اللہ رب العالمین اور محسن انسانیت ﷺ کے درج ذیل احکامات کی تکمیل کے قائم کیا گیا ہے۔
یہ تو ممکن تھا کہ تمام اہل ایمان مل کر (حصول علم) کے لیے نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہو کہ ہر آبادی میں سے ایسے گروہ (اپنے گھروں ) سے نکلتے اور دین میں بصیرت حاصل کرتے۔
( التوبہ ،آیت۔122)
یقیناًہم ہی نے اِس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اِس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
( الحجر ،آیت۔9)
تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن کا علم حاصل کرتے اور اُسے آگے منتقل کرتے ہیں۔
( صحیح بخاری،5030)
تاریخ
جامع العلوم کا آغاز 14 جولائی 1955ء کو ہوا، جب ملتان شہر کی ایک چھوٹی سی مسجد میں صرف ایک استاد اور تین طلبہ نے مل کر اس مبارک ادارے کی داغ بیل ڈالی۔ کچھ عرصہ بعد جب یہ مسجد مدرسہ کے لیے ناسازگار ثابت ہوئی تو منتظمین نے چوک دولت گیٹ کے باہر، شہر سے کچھ فاصلے پر چھ کنال زمین خرید لی اور تعمیرات کا انتظام کیے بغیر درختوں کے زیرِ سایہ تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ مگر چند ہی ماہ بعد اہلِ خیر حضرات کے تعاون سے ایک مسجد، چند درسگاہیں اور قیام گاہیں تعمیر کر دی گئیں۔
انیس سو پچپن میں ایک درخت کے زیرِ سایہ پروان چڑھنے والا یہ ننھا سا پودا آج ایک شاداب، تناور اور ثمر آور درخت بن چکا ہے، جس کی چھاؤں علم، تربیت اور رہنمائی کے متلاشیوں کو مسلسل فیض یاب کر رہی ہے۔ ادارہ ہذا کی بصیرت افروز قیادت، باصلاحیت انتظامیہ اور مخلص و محنتی اساتذہ کی شبانہ روز کاوشوں نے اسے دینی و عصری تعلیم کے میدان میں ایک ممتاز اور باوقار مقام عطا کیا ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف دینی حلقوں میں اپنی مضبوط شناخت قائم کر چکا ہے بلکہ جدید تعلیمی میدان میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، جہاں طلبہ نے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان، نیز بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں اعلیٰ پوزیشنیں حاصل کر کے ادارے کا نام روشن کیا ہے۔
جامع العلوم ملتان کے فارغ التحصیل طلبہ آج پاکستان کے مختلف نمایاں تعلیمی اداروں اور قومی محکموں میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، اسلامیہ یونیورسٹی اسلام آباد، پنجاب یونیورسٹی، ایچی سن کالج لاہور اور دیگر متعدد کالجز و یونیورسٹیز شامل ہیں، جہاں یہ طلبہ علم، تدریس، تحقیق اور انتظامی شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف سرکاری و نجی اداروں میں بھی جامعہ کے طلبہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں، جو اس ادارے کی معیاری تعلیم، بہترین تربیت اور مضبوط بنیادوں کا واضح ثبوت ہے۔
نظام تعلیم
جامعہ کا نظامِ تعلیم ایک جامع اور متوازن تعلیمی ماڈل پر مبنی ہے جس میں علومِ دینیہ (درسِ نظامی) اور علومِ عصریہ کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ طلبہ نہ صرف دین کی گہری سمجھ حاصل کریں بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہو سکیں۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت، باکردار اور باعلم افراد تیار کرنا ہے جو علم اور عمل دونوں میں نمایاں ہوں اور معاشرے کی مثبت رہنمائی کر سکیں۔
علومِ دینیہ کے شعبہ میں مکمل درسِ نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے، جس میں قرآنِ کریم، تفسیر، حدیثِ مبارکہ، اصولِ حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب، منطق اور دیگر دینی علوم شامل ہیں۔ یہ نصاب اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ طلبہ میں گہری دینی بصیرت، تحقیقی صلاحیت اور دعوت و رہنمائی کی مکمل استعداد پیدا ہو، تاکہ وہ دینِ اسلام کی صحیح ترجمانی کر سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ علومِ عصریہ کے شعبہ میں جدید تعلیمی نظام کے مطابق مکمل تعلیمی سلسلہ فراہم کیا جاتا ہے، جس میں مڈل، میٹرک، ایف اے، بی ایس اور ایم فل تک کی تعلیم شامل ہے۔ ان درجات میں طلبہ کو سائنس، ریاضی، انگریزی، کمپیوٹر اور دیگر جدید مضامین کی معیاری تعلیم دی جاتی ہے، تاکہ وہ ملکی و عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل بن سکیں اور پیشہ ورانہ میدان میں کامیابی حاصل کریں۔
یہ منفرد تعلیمی امتزاج طلبہ کو ایک ہمہ جہت شخصیت عطا کرتا ہے، جہاں وہ ایک طرف دینی شعور اور اخلاقی اقدار سے مزین ہوتے ہیں اور دوسری طرف جدید علم و ہنر سے آراستہ ہو کر عملی زندگی میں کامیاب کردار ادا کرتے ہیں۔ جامعہ اپنے طلبہ کو نہ صرف ایک عالمِ دین بلکہ ایک باشعور، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری بنانے کے لیے پرعزم ہے، جو دین، قوم اور انسانیت کی خدمت کو اپنا نصب العین سمجھتے ہوں۔
خصوصیات
تعلیم کے ساتھ ساتھ فکری، اخلاقی اور تحریکی تربیت کا انتظام
دینی علوم کے لیے رابطۃ المدارس االاسلامیہ پاکستان کا آٹھ سالہ نصاب ِ تعلیم رائج ہے، جس کی شہادۃ العالمیہ (دورہ حدیث) کی سند
ایم اے عربی و اسلامیات کے مساوی تسلیم کی جاتی ہے
کمپیوٹر کی بنیادی اور اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ فری لانسنگ کی فری تعلیم
ہر قسم کی فرقہ بندی سے بالا تر ہو کر خالص اسلامی تعلیمات سے رُوشناس کرانا اور طلبہ کو اتحادِ امت کا داعی بنانا
کلاس ثامنہ (دورهٔ حدیث) کے طلبہ کو تحقیقی مقالہ جات لکھنے کی باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور ہر طالبِ علم کےلیے تحقیقی مقالہ لکھنا لازمی ہے
رہائش کے لیے تمام جدید سہولیات سے آراستہ جدید ترین خوبصورت اور وسیع ہاسٹل
مستحق طلبہ کے لیے قیام و طعام اور علاج معالجہ کی مفت سہولیات
دینی و عصری علوم کی ایک ساتھ تعلیم
اسکالرشپس
- سالانہ امتحانات کلاس کی سطح پر پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کےلیے ماہانہ اسکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔
- تعلیمی بورڈ ز میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کی خاطر خاتم النبیین ﷺ اسکالر شپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔
نئے تعلیمی منصوبے
اسلامی بینکنگ کے ماہرین کی تیاری
عربی بول چال کورس
انگلش بول چال کورس
بانیانِ جامعہ
چوہدری نذیر احمد (رحمۃ اللہ علیہ)
(بانی و مہتمم اوّل جامع العلوم ملتان)
چوہدری نذیر احمد مرحوم نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تقسیم ہند سے قبل انگریز سرکارکے ماتحت نائب تحصیلدار کی حیثیت سے کیا۔سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی قائم کردہ جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہوئے تو دل کی دنیا بدل گئی۔چنانچہ قیامِ پاکستان سے قبل ہی انھوں نے تمام خاندان اور احباب کی مخالفت کے باوجود نائب تحصیلدار کی پرُکشش آسامی سے استعفاء دے دیا اور اپنی ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔سرکاری نوکری سے استعفاء دینے کے بعد خدمتِ دین کو اپنا مطمح نظر بنا لیا۔ ابتداء میں روزگار کے طور پر کاروبار شروع کیا۔ البتہ چند سال بعد تعلیم و تدریس سے منسلک ہوگئے۔ 1955ء میں مدرسہ جامع العلوم ملتان کا آغاز کیا اور 21 سال (وفات تک) اس کے مہتمم رہے۔1972 ء میں وزیرِ اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی پہلی تعلیمی پالیسی بنانے کا اعلان کیا تو چوہدری نذیز احمد مرحوم نے تعلیمی اصلاحات کے لیے 70 صفحات پر مشتمل اپنی تجاویز اُن کو بھجوائیں۔اِن میں اسلام کا نظریہ تعلیم اور طریقِ تدریس کی بڑی تفصیل سے وضاحت فرمائی اور بتایا کہ کس طرح دینِ اسلام کے بنیادی تصورات کو تمام مضامین کے نصاب کا لازمی جزو بنایا جا سکتا ہےتاکہ ہمارے تعلیمی ادارےملحد نوجوان کی بجائےسچے اور پکے باعمل مسلمان پیدا کر سکیں۔

مولانا معین الدین (رحمۃ اللہ علیہ)
مولانا حکیم محمد عبداللہ (رحمۃ اللہ علیہ)
مولانا خان محمد ربانی (رحمۃ اللہ علیہ)
شیخ عبد المالک (رحمۃ اللہ علیہ)
مہتممین ادارہ
چوہدری نذیر احمد (رحمۃ اللہ علیہ)
مولانا معین الدین (رحمۃ اللہ علیہ)
مولانا خان محمد ربانی (رحمۃ اللہ علیہ)
مولانا عبد العزیز (رحمۃ اللہ علیہ)
مولانا عبدالرزاق صاحب (مدظلہ)
محسنینِ جامعہ

محترم محمد امین مان مرحوم
محترم محمد امین مان مرحوم (برمنگم، برطانیہ) جامع العلوم ملتان کے مخلص محسن، دیرینہ خیر خواہ اور ادارے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے والی باوقار شخصیت ہیں۔ آپ کی بے لوث مالی و عملی معاونت سے جامع العلوم ملتان میں متعدد اہم تعمیراتی اور فلاحی منصوبے پایۂ تکمیل کو پہنچے، جن میں اساتذہ کی رہائش گاہیں، طلبہ کے لیے جدید طرز کا ہاسٹل، جامع مسجد کی تزئین و تجدید اور وضو و آب رسانی کے جدید انتظامات نمایاں ہیں۔ آپ کی فراخ دلی، اخلاص اور مسلسل تعاون نے جامعہ کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا، یہاں تک کہ آج جامع العلوم کی موجودہ خوبصورت اور منظم صورت میں آپ کی خدمات نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔ آپ کی یہ گراں قدر خدمات صدقۂ جاریہ کا روشن نمونہ ہیں اور جامع العلوم ملتان ہمیشہ آپ کی ان بے مثال کاوشوں کو قدر و احترام کی نگاہ سے یاد رکھے گا۔

مولانا احسان احمد فاروقی مرحوم
مولانا احسان احمد فاروقی مرحوم جامع العلوم ملتان کے مخلص خادم، سابق ناظمِ مالیات اور ادارے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے والی باوقار شخصیت تھے۔ آپ نے اخلاص، دیانت اور غیر معمولی محنت کے ساتھ جامعہ کے مالی و انتظامی امور کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا اور ادارے کی ترقی کے لیے بے شمار خدمات انجام دیں۔ جامع العلوم کے معاونین اور محسنین سے مضبوط تعلقات استوار کرنے میں بھی آپ کا کردار نہایت اہم رہا، خصوصاً محترم محمد امین مان صاحب کو جامع العلوم سے متعارف کروانے اور ادارے سے وابستہ کرنے کا عظیم اعزاز بھی آپ ہی کو حاصل ہے۔ آپ کی گراں قدر خدمات جامع العلوم کی تاریخ کا روشن باب ہیں، جنہیں ہمیشہ قدر و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔
منتظمین جامعہ







جامع العلوم ملتان کے روشن ستارے
جامع العلوم ملتان کے یہ ممتاز فاضلین ادارے کی علمی روایت، معیاری تعلیم اور بہترین تربیت کے حقیقی نمائندے ہیں۔ یہاں سے اپنے علمی سفر کا آغاز کرنے کے بعد آج یہ مختلف جامعات، دینی و تعلیمی اداروں اور قومی سطح کے مراکز میں تدریس، تحقیق، انتظام اور دعوت کے شعبوں میں مؤثر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی علمی کامیابیاں اور عملی کردار جامع العلوم کے لیے باعثِ افتخار ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے عزم، محنت اور خدمت کا روشن نمونہ بھی۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری صاحب

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل ہیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم جامع العلوم ملتان سے حاصل کی، جہاں علمی، اخلاقی اور فکری تربیت نے آپ کی شخصیت کی مضبوط بنیاد رکھی۔ بعد ازاں جدید اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے تدریس، تحقیق اور تعلیمی قیادت میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ آپ یونیورسٹی آف سرگودھا کے وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں اور متعدد علمی و تحقیقی منصوبوں کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ آپ کی علمی خدمات، انتظامی بصیرت اور قومی سطح پر تعلیمی میدان میں کردار جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ اعزاز اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر سلیم طارق خان صاحب

پروفیسر ڈاکٹر سلیم طارق خان جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل ہیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم جامع العلوم ملتان سے حاصل کی، جہاں سے علم و تحقیق سے گہرا شغف اور اعلیٰ اخلاقی اقدار آپ کی شخصیت کا حصہ بنیں۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے تدریس، تحقیق اور تعلیمی انتظام میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ آپ دی اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور کے ڈین فیکلٹی آف اسلامک لرننگ اور بعد ازاں قائم مقام وائس چانسلر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ آپ کی علمی خدمات، تحقیقی رہنمائی اور تعلیمی قیادت جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ اعزاز اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
پروفیسر حافظ شبیر احمد جامعی صاحب

پروفیسر حافظ شبیر احمد جامعی جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل ہیں۔ آپ نے 1976 سے 1981 تک جامع العلوم ملتان میں بطور طالب علم دینی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں 1982 سے 1987 تک اسی عظیم درسگاہ میں بطور مدرس تدریسی خدمات انجام دیں۔ اعلیٰ تعلیم کے بعد آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں شعبہ علوم اسلامیہ کے پروفیسر، سینٹر آف ایکسیلنس کے ڈائریکٹر اور مختلف علمی و تحقیقی ذمہ داریوں پر نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ آپ حلقات القرآن پاکستان (الھیئۃ الاغاثۃ الاسلامیہ، رابطہ عالم اسلامی) کے سابق ڈائریکٹر بھی رہے، جہاں آپ نے تعلیمِ قرآن اور دینی دعوت کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کیا۔ آپ کی علمی بصیرت، تدریسی خدمات اور دینی و تحقیقی کاوشیں جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ اعزاز اور اہلِ علم کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔
جناب پروفیسر عبدالرحمن عابد صاحب

جناب پروفیسر عبدالرحمن عابد جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل ہیں۔ آپ نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم جامع العلوم ملتان سے حاصل کی، جہاں سے علمی بصیرت، کردار سازی اور خدمتِ خلق کا جذبہ آپ کی شخصیت کا حصہ بنا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے پاکستان کی اعلیٰ سول سروس میں نمایاں خدمات انجام دیں اور وفاقی سیکریٹری (ریٹائرڈ) کے منصب تک پہنچے۔ سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ آپ نے نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی ، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں بطور پروفیسر تدریسی و فکری خدمات بھی انجام دیں۔ آپ کی انتظامی بصیرت، علمی خدمات اور قومی سطح پر نمایاں کردار جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ اعزاز اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی مرحوم

ڈاکٹر محمد باقر خان خاکوانی مرحوم جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل تھے۔ آپ نے جامع العلوم ملتان سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی، جہاں سے علم، تحقیق اور تدریس کا ذوق پروان چڑھا۔ بعد ازاں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اسلامی علوم، خصوصاً تحقیق و تصنیف کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ متعدد علمی و تحقیقی کتب کے مصنف تھے، جن میں اسلامی اصولِ تحقیق اور پاکستان میں قرآن مجید کے تراجم و تفاسیر (1974ء تا حال) کو علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ کی علمی خدمات، تحقیقی بصیرت اور تصنیفی سرمایہ جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ فخر اور اہلِ علم کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر عمران حیات ملک صاحب

پروفیسر ڈاکٹر عمران حیات ملک جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل ہیں۔ آپ نے جامع العلوم ملتان سے ابتدائی دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، جن میں اسلامیات میں پی ایچ ڈی، درسِ نظامی اور ایم اے انگلش شامل ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے پر آپ کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ اس وقت آپ یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور میں شعبہ اسلامیات کے لیکچرر کی حیثیت سے تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ الحیات ریسرچ جرنل کے چیف ایڈیٹر بھی ہیں۔ اسلامیات، فقہ، بین المذاہب مطالعات اور عصری اخلاقی موضوعات پر آپ کی علمی و تحقیقی خدمات جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ فخر اور نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر سرفراز اجمل صاحب

ڈاکٹر محمد سرفراز اجمل جامع العلوم ملتان کے ممتاز اور قابلِ فخر فارغ التحصیل ہیں۔ آپ نے قرآنِ کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور درسِ نظامی کی تعلیم جامع العلوم ملتان سے مکمل کی، جس کے بعد اسلامیات میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس وقت آپ فاسٹ یونیورسٹی، لاہور میں بطور لیکچرار تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ مختلف جامعات میں وزٹنگ لیکچرار کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ آپ ایک محقق، مصنف، ٹی وی اینکر اور علمی جرائد و اخبارات میں باقاعدگی سے لکھنے والے اسکالر ہیں، جن کی متعدد کتب اور تحقیقی مقالات شائع ہو چکے ہیں۔ تعلیم، تحقیق، تصنیف اور میڈیا کے ذریعے اسلامی تعلیمات کے فروغ میں آپ کی گراں قدر خدمات جامع العلوم ملتان کے لیے باعثِ اعزاز اور نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال ہیں۔
