Quran
Select a Quran module
1نسب اور خاندان
رسول اللہ ﷺ قریش کے معزز خاندان بنو ہاشم سے تھے۔ آپ ﷺ کے والد حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب اور والدہ حضرت آمنہ بنت وہب تھیں۔ آپ ﷺ کا نسب عرب کے معروف خانوادۂ قریش میں تھا اور آپ ﷺ کے آباؤ اجداد میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل شامل ہے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کی پرورش ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں کعبہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا، لیکن شرک، قبائلی تعصب اور متعدد جاہلی رسوم عام تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس معاشرے کی اصلاح اور توحید کی دعوت کے لیے منتخب فرمایا۔
2ولادت اور ابتدائی زندگی
نبی کریم ﷺ کی ولادت مکہ مکرمہ میں عام الفیل کے زمانے میں ہوئی۔ آپ ﷺ بچپن ہی میں والدہ اور پھر دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد حضرت ابو طالب کی کفالت میں آئے۔ عرب کے دستور کے مطابق آپ ﷺ نے ابتدائی مدت حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گزاری۔ جوانی میں آپ ﷺ اپنی سچائی، امانت اور پاکیزہ کردار کی وجہ سے اہل مکہ میں ممتاز ہوئے اور لوگ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے نام سے پہچانتے تھے۔
3حضرت خدیجہؓ سے نکاح اور نبوت سے پہلے
رسول اللہ ﷺ نے جوانی میں تجارت کی اور اپنی دیانت و امانت کے ذریعے شہرت حاصل کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کے حسنِ معاملہ سے متاثر ہو کر آپ ﷺ سے نکاح کیا۔ آپ ﷺ نے مکہ کے معاشرے میں ہمیشہ پاکیزہ کردار اپنایا اور باطل رسوم سے کنارہ کشی رکھی۔ کعبہ کی تعمیر کے موقع پر حجرِ اسود رکھنے کے معاملے میں آپ ﷺ کی حکمت نے قبائل کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف کو ختم کیا۔
4بعثت اور پہلی وحی
چالیس برس کی عمر میں رسول اللہ ﷺ پر غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور سورۃ العلق کی ابتدائی آیات کے ذریعے نبوت کا آغاز ہوا۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام اللہ کا پیغام لے کر آئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ابتدا ہی میں آپ ﷺ کی تصدیق کی اور آپ ﷺ کو تسلی دی۔ اس کے بعد قرآن مجید مسلسل نازل ہوتا رہا اور آپ ﷺ نے توحید، رسالت، آخرت، عدل اور تزکیۂ نفس کی دعوت شروع فرمائی۔
5مکی دعوت اور آزمائشیں
مکہ میں دعوتِ اسلام کا آغاز حکمت اور تدریج کے ساتھ ہوا۔ ابتدا میں قریبی لوگوں کو دعوت دی گئی، پھر علانیہ توحید کا پیغام عام کیا گیا۔ قریش نے مخالفت، سماجی دباؤ اور اہل ایمان کو مختلف طرح کی تکالیف پہنچانے کا سلسلہ شروع کیا۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ شعبِ ابی طالب کا محاصرہ بھی پیش آیا۔ ان سخت حالات میں نبی کریم ﷺ نے دعوت اور صبر کو جاری رکھا اور صحابہؓ کو ثابت قدم رکھا۔
6طائف، بیعتِ عقبہ اور ہجرت
مکہ کی مسلسل مخالفت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے طائف کا سفر کیا، پھر مدینہ کے لوگوں سے بیعتِ عقبہ کے ذریعے اسلام کی حمایت کا راستہ کھلا۔ انصار نے نبی کریم ﷺ کی مدد اور حفاظت کا عہد کیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت شروع کی اور آخرکار رسول اللہ ﷺ بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ تشریف لے گئے۔ ہجرت اسلامی تاریخ کا ایک فیصلہ کن مرحلہ بنی اور اسلامی معاشرے کے قیام کی بنیاد رکھی گئی۔
7مدینہ اور اسلامی معاشرے کی تشکیل
مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد مسجد نبوی کی تعمیر ہوئی اور مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم کی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے عبادت، عدل، معاشرت اور اجتماعی ذمہ داریوں پر قائم ایک منظم معاشرہ تشکیل دیا۔ مختلف گروہوں کے ساتھ معاہدات ہوئے اور مدینہ ایک ایسا مرکز بن گیا جہاں قرآن و سنت کی تعلیمات عملی زندگی میں نافذ ہوتی تھیں۔ مسجد نبوی تعلیم، عبادت، مشاورت اور اجتماعی نظم کا اہم مرکز بن گئی۔
8بدر، احد اور خندق
مدینہ کے بعد مسلمانوں کو متعدد دفاعی آزمائشوں کا سامنا ہوا۔ غزوۂ بدر میں اہل ایمان کو غیر معمولی مدد اور فتح حاصل ہوئی۔ غزوۂ احد نے اطاعتِ رسول ﷺ اور نظم و ضبط کی اہمیت واضح کی، جبکہ غزوۂ خندق میں مدینہ کے دفاع کے لیے اجتماعی حکمتِ عملی اپنائی گئی۔ ان واقعات میں رسول اللہ ﷺ کی قیادت، مشاورت، صبر اور اللہ تعالیٰ پر توکل نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
9صلحِ حدیبیہ
رسول اللہ ﷺ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ عمرہ کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ حدیبیہ کے مقام پر قریش کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور ایک معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن اس معاہدے نے امن کا ایسا موقع فراہم کیا جس کے نتیجے میں دعوتِ اسلام تیزی سے پھیلی۔ قرآن مجید نے اس واقعے کو فتحِ مبین کے عنوان سے یاد کیا۔
10فتحِ مکہ
فتحِ مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ ایک عظیم لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے عمومی انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو اختیار کیا اور کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے توحید کی مرکزی علامت کو دوبارہ قائم فرمایا۔ اہل مکہ کے بڑے طبقے نے اسلام قبول کیا اور عرب کے متعدد قبائل اسلام کے قریب آنے لگے۔ فتحِ مکہ نے جزیرۂ عرب میں اسلامی دعوت کو ایک نئی وسعت عطا کی۔
11حجۃ الوداع اور آخری خطبہ
دسویں ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے حج ادا فرمایا۔ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے مسلمانوں کے جان، مال اور عزت کے احترام، امانتوں کی ادائیگی، سودی معاملات کے خاتمے، عورتوں کے حقوق اور تقویٰ پر زور دیا۔ آپ ﷺ نے قرآن و ہدایت کو مضبوطی سے تھامنے کی تاکید فرمائی اور امت کو اجتماعی ذمہ داریوں اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کی طرف متوجہ کیا۔
12آخری ایام اور وصال
رسول اللہ ﷺ کی آخری بیماری مدینہ منورہ میں ہوئی۔ آپ ﷺ نے نماز، غلاموں اور ماتحتوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی تاکید فرمائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے میں آپ ﷺ کا وصال ہوا اور آپ ﷺ کو وہیں دفن کیا گیا جہاں آپ ﷺ کی وفات ہوئی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے قرآن و سنت کی ایسی روشن میراث چھوڑی جو قیامت تک امت کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔
Word-by-Word Translation
Select a Teacher
ڈاکٹر فرحت ہاشمی
Word by Word • 30 Paras
مفتی قاسم عطاری
Word by Word • 6 Parts
اس source کا صاف text براہِ راست حاصل نہیں ہو سکا۔ اصل online text page نیچے کھولا جا رہا ہے۔
16-Line Quran
Read with the full-screen PDF viewer inside the app